16 جولائی 2014 - 14:14
داعش پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے سیکریٹری بان کی مون نے دہشت گرد تنظیم داعش پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ابنا: بان کی مون نے کہا کہ داعش کے خلاف بین الاقوامی سطح پر پابندی عائد کی جائے۔ رویٹرز کے مطابق بان کی مون نے سلامتی کونسل سے خطاب میں کہا کہ اقوام متحدہ کے ارکان کو داعش کے خلاف مالی، اسلحہ جاتی اور سفر سے متعلق پابندیاں عائد کرنی جاہئے۔

بان کی مون نے کہا کہ دہشت گرد تنظیم داعش اور اس کے حامیوں کے تشدد آمیز اقدامات کی میں سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں عراق کے پڑوسی ممالک سمیت اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک سے درخواست کرتا ہوں کہ ان کو دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کی حمایت کرنا چاہئے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ اس بات کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے کہ دہشت گردی، عراق کو جمہوریت کے عمل روک دے۔ انہوں نے عراق کی صورت حال پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔
دوسری جانب مراکش کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ ملک کے 2000 سے زیادہ افراد دہشت گرد تنظیم داعش کے رکن ہیں۔

فرانس پریس کے مطابق محمد حصاد نے کہا کہ موصولہ معلومات کی بنیاد پر مراکش کے 2000 سے زیادہ افراد، داعش کے رکن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے 5 مراکش کے شہری حال ہی میں داعش کے اعلی عہدوں فائز ہوئے ہیں۔

مراکش کے وزیر داخلہ نے کہا کہ عراق میں اب تک مراکش کے 200 رکن ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 128 وطن لوٹ آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی اہکاروں نے انہیں گرفتار کر لیا ہے اور ان سے تحقیقات جاری ہے۔
مراکش کے وزیر داخلہ نے داعش سے تعلق رکھنے والے مراکش کے شہریوں کی وطن واپسی پر تشویش ظاہر کی۔

در ایں اثنا مراکش کے ذرائع ابلاغ کے مطابق داعش سے تعلق رکھنے والے مراکش کے دسیوں شہری، موجودہ وقت میں شام اور ترکی کی سرحد پر موجود ہیں جو وطن واپسی کے لئے مغربی حکام کی اجازت کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان رپورٹوں کے مطابق یہ افراد داعش کے رویے سے پشیمان ہوکر وطن لوٹ رہے ہیں۔

مراکش کی قومی سیکورٹی کمیٹی کے مطابق، سنہ 2011 سے 2013 کے درمیان ایسے 18 گروہوں کو پکڑا جا چکا ہے جو دہشت گردانہ کاروائیوں کے لئے لوگوں کو تربیت دیتے تھے۔

.......

/169